نوآبادیات کی اصطلاح کا تاریخی اعتبار سے کوئی تعین تو نہیں کیا جا سکتا البتہ اس کی وضاحت میں متعدد دلائل ضرور دیئے جا سکتے ہیں، جن کی رو سے عالمی طاقتیں کمزور اقوام کے معاشی وسائل پر قابض ہونے کے بعد ان کے معاشی، سیاسی، تعلیمی، لسانی اور ثقافتی طرزِ حیات میں کچھ اس انداز سے تبدیلی لاتی ہیں کہ نو آبادیاتی نظام حاکم و محکوم کے طبقات میں منقسم ہو جاتا ہے اور ایک طرح کے استعمار کو جنم دیتا  ہے۔ جس کی  رو تمام  ثقافتی رشتے طاقت کے رشتے ہیں۔ اس کے ذریعے وہ نہ صرف سیاسی حوالے سے بلکہ معاشی ، معاشرتی، تعلیمی اور لسانی حوالے سے بھی قابض اقوام کو زیرنگیں رکھتا ہے۔ سیاسی، آئینی اور تعلیمی اصلاحات کےنام پر نو آبادیات کو غلامی کے شکنجے میں جکڑا جاتا ہے، جس سے  آباد کاروں سے آویزش اور آمیزش کے طبقات جنم لیتے ہیں، آمیزش کے تحت آباد کاروں کا ہم خیال جب کہ آویزش کی رو سے باغی طبقہ جنم لیتا ہے۔ اس کے رد عمل میں نئی تہذیبی، علمی، فکری اور ادبی روشیں جنم لیتی ہیں، ہندوستان میں تقسیم ہند سے قبل بدیسی سامراج نے ہندوستانی اذہان و افکار کو نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ، علمی، ثقافتی، تہذیبی اور ادبی سطح پر مغلوب کیا۔ ان اثرات کے تحت  یہاں کی بولی جانے والی زبانوں میں فکری اور تخلیقی سطح پر نت نئے رویے سامنے آئے ۔پاکستان میں 70 کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں جو اپنا ایک مخصو ص کلچر، روایات اور سماجی پس منظر کے ساتھ ساتھ اپنی ایک خاص ادبی روایت بھی رکھتی ہیں۔ چنانچہ نئے سامراجی نظام کے تحت ان زبانوں نے نہ صرف نئے فکری اور تہذیبی رویوں کو قبول کیا بلکہ ان سے بغاوت کے رویے بھی سامنے آئے۔ اس پس منظر میں پاکستانی زبانوں کے ادب اور اس پر اثرانداز ہونے والے تمام رجحانات کا احاطہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔